Categories
Governance & Civil Services

پختونخواہ میں انسانی ترقی اور نوجوان

گزشتہ ربع صدی میں پختونخواہ کو انسانی ترقی کے میدان می میں تباہ کن زوال اور بحران کاسامنا کرنا پڑا ہے ۔ صاف سھری خوراک تک رسائی , تعلیم, صحت, صفائی کا جامع نظام,ٹرانسپورٹ, جرائم اور بد عنوانی کاخاتمہ, فعال عدلیہ, شفاف ادارے, یہ سب انسانی ترقی کی بنیاد ڈالنے والی اکائیاں ہیں ۔ ان کا انحصار اچھے انتظام پر ہوتا ہے ۔ جدید ریاستی امور کی اصطلاح میں انھیں گڈ گورننس یا اچھا انتظام کہتے ہیں۔ ہم نے دہکھنا ہے کہ پختونخواہ میں انتظامی صورتحال کس طرح کی ہے اور گزشتہ ربع صدی میں اس پر زوال اور بحران کیسے آئے۔ کسی بھی معاشرے میں اداروں اور انتظام کی بہتر کار کردگی کے لیے بیدار, منظم اور, جتنا ممکن ہو, تعلیم یافتہ عوام کاہونا ضروری ہے ۔ غیر منظم,غافل اور ان پڑھ عوام کو آسانی سے دھوکہ بھی دیا جا سکتا ہے اور ڈرایا دھمکایا بھی جاسکتا ہے ۔ اس طرح کی عوام کے حقوق چوری کرنا کسی بھی اشرافیہ کے لیے بے حد آسان ہوتا ہے ۔ ایسی عوام کی مثال جانوروں کی ایک تابع اور محکوم ریوڑ کی سی ہوتی ہے جن پر بھیڑیوں اور زیادہ طاقتور جانوروں کاکوئی بھی غول یا جتھہ آسانی سے حملہ آور ہوسکتا ہے ۔ ایسی عوام ایک محکوم اور مغلوب رعایاتو بن سکتی ہے لیکن کوئی محترم, خود مختار اور ذمہ دار شہری نہیں۔ ریاستی اداروں سے اسطرح کی رعایا مناسب خدمات اور اچھی کارکردگی نہیں حاصل کر سکتی ۔ ایسی رعایا پر مشتمل معاشروں میں ریاستی ادارے وفت گزرنے کے ساتھ عوامی خادموں سے بدل کر افسر شاہی بن جاتے ہیں۔ یہ عوام الناس کی خدمت کرنے کی بجائے ان پر حکومت اورچان سےلوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر دیتے ہیں۔
بدقسمتی سے گزشتہ چند دہائیوں میں پختونخواہ کے عوامکواسی طرح کی صورتحالکا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔ اداروں کی کارکردگی کا بحران پختونخواہ میں انسانی ترقی کے بحران کی ایک بڑی وجہ بن کر ابھرا ہے ۔ پختونخواہ میں اداروں کی اصلاح , فعالیت اور خطے میں انسانی ترقی کے بحران کےخاتمے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔ عوامی بیداری, تنظیم اور جدوجہد ایسے کسی بھی منصوبے کے بنیادی اجزاء ہوں گے۔ نوجوان پختونخواہ کی آبادی کا اکثریتی حصہ ہیں ۔ ان کی تربیت اور تنظیم کسی بھی بڑے معاشرتی مقصد کے حصول کے لیے بے حد ضروری ہے۔ پختونخواہ میں انسانی ترقی کے بحران کے خاتمے اور اداروں کی اصلاح اور تشکیل نو کے لیے نوجوانوں پر مشتمل علاقائی سطح پر منظم جدوجہد وقت کی سب سے بڑیضرورت بن چکا ہے۔ ہم نے دیکھنا یہ ہےکہ ہم اپنے نوجوانوں کو کتنی جلد ایسی جدوجہد کے لیے تیار اور منظم کرکے میدان میں اتار سکتے ہیں ؟ یاد رکھیں مہزب, شریف, منظم اور تربیتہ یافتہ نوجوان ہی پختونخواہ کے مسائل کے سب سے اچھے حل نکال سکتے ہیں۔ اس جدوجہد میں ان کی رہنمائی,تنظیم اور مدد کرنا ہم سب کی اجتماعی قومی ذمہ داری ہے

By Fawad

I Want to develop my people.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *